Nooraayy

Published writing

بھیگی آنکھوں کے قصے

‎آنکھوں کو بھیگے اب زمانے ہوگئے ‎اب قصے مرے درد کے پرانے ہوگئے ‎ٹوٹے تو شہر بھر آواز گونجے گی ‎اندر سے اس قدر ہم ویرانے ہوگئے ‎یہ اشک مرے مجھے ہارا سا دیکھ کر ‎یوں ساتھ میرے آج سرہانے سوگئے ‎کچھ دل کے خواب جو دل میں ہی رہ گئے ‎حقیقت نہ بن سکے تو فسانے ہوگئے ‎بھیگی سی رات ہو تاروں کے سنگ نور ‎ہم جیسوں کے یہی تو اب ٹھکانے ہوگئے

Read and follow Nooraayy on Writory